...زبیر منصوری صاحب سے ملاقات کا احوال...

وہ جمعہ کی گرم دوپہر تھی جب میں اسکول سے نکل کر اپنے دوست کے گھر جا
رہا تھا سڑکوں پر ٹریفک نہیں تھی ہاں مگر گرم ہوائیں ہر طرف چل رہی تھی ابھی جمعہ
کی نماز میں ایک گھنٹہ باقی تھا میں طارق روڈ سے نکل کر گلشن کی طرف اپنے سفر میں
گامزن تھا۔ شہر کی مضافات ایک عجیب پر اسرار خاموشی میں غرق تھا آسمان پر بادل بھی
نہیں تھے سورج زمین پر آگ برسا رہا تھا آذان کی آواز گونج رہی تھی اور رب اپنے
بندوں کو صلوۃ اور فلاح کے لئے پکار رہا تھا جب میں اپنے دوست کے گھر پہنچا
تو وہ گھر میں نہیں تھا اسے میرے آنے کی خبر نہ تھی کیوں کہ میں بھی اسے مطلع کئے
بغیر اس سے ملنے چلا گیا اگر اسے میرے آنے کی خبر ہوتی تو وہ شاید میرا انتظار
کرتا فی الحال میں نے واپسی کی راہ پکڑی اور اپنے گھر کی جانب ہو لیا میں ابھی
گلشن کی حدود میں داخل ہی ہوا تھا کہ مجھے میرے بچپن کے بھولے بسر یاد آگئے جہاں
میرا بچپن گزرا، وہ چھوٹی چھوٹی تنگ گلیاں جس پر بڑے دل والے لوگ وہ کچے مکانوں
میں من کے سچے لوگ۔۔۔ چلچلاتی دھوپ تھی جمعہ کی آذان ہو چکی تھی لوگ مسجد کی طرف
تیزی سے بڑھ رہے تھے میں نے بھی اپنا رخ مسجد کی طرف کیا ابھی مسجد میں داخل ہوا
وضو خانے سے وضو کی اور مسجد کے صحن میں آکر دوسری صف میں بیٹھ گیا۔ خطبہ ختم ہو
چکا تھا نمازی اپنی اپنی نشست پر کھڑے تھے موذن نے باآواز بلند اقامت کی سب اپنی
اپنی صفیں باندھنے میں مصروف ہوگئے میں دوسری صف سے نکل کر پہلی صف میں آن کھڑا
ہوا امام صاحب نے تکبیر کہا ہم سب بارگاہِ الہی میں اپنی عبادت میں مشغول ہوگئے۔
ابھی دوسری رکعت کے سجدوں سے جلسے پر بیٹھے التحیات و درود پڑھی اور
دعا کے بعد امام صاحب کے ساتھ پہلا سلام پھیر کر دوسرے سلام کے لئے دائیں سے بائیں
کندھے کی جانب دیکھا جیسے ہی سلام پھیر کر اپنی جھکی ہوئی نظریں اُٹھائی تو سامنے
ایک شخص کو دیکھ کر مجھے حیرانی ہوئی یہ وہ شخص تھے جنہیں ہمیشہ پڑھتا رہتا ہوں جن
سے ملنے کی خواہش ہمیشہ رہی مگر کبھی ملاقات کا شرف حاصل نہ ہوا ابھی نماز کی چند
رکعتیں باقی تھی سو انہیں ادا کیا اور مسجد میں ان کا انتظار کرنے لگا جیسے ہی ان
کی نماز مکمل ہوئی تو وہ دروازے کی جانب بڑھے میں بھی ان کے پیچھے ہو لیا اور جا
کر سلام کے ساتھ ان سےاپنا تعارف کروایا۔
ہم مسجد سے باہر نکلے فضا میں خاموشی تھی سبزی اور پھل فروش والے
نمازیوں کو دام بتا کر پکار رہے تھے وہ میرا ہاتھ تھامے سڑک کنارے چلتے چلتے مسجد
سے کئی فاصلے طے کر چکے تھے اور میری موٹر بائک مسجد کے پارکنگ والی جگے پر موجود
تھی کچھ دیر بعد ہم ایک گلی میں داخل ہوئے اور ایک مکان تک پہنچے جہاں وہ شاید کسی
کام کے غرض سے آئے ہوئے تھے وہ گھر مجھے شاید کوئی دفتر معلوم ہورہا تھا یا پھر
کوئی تعلیمی ادارہ ۔ بہرحال ہم ایک چھوٹے سے کمرے میں بیٹھے اور چائے پر گفتگوں
شروع ہوئی بیس منٹ تک میرا ان سے مکالمہ چلتا رہا جس پر کئی سوالات وہ پوچھتے گئے
اور میں ان کے ہر سوال کا جوابات دیتا رہا پھر کچھ ہی دیر میں انہیں ایک کال موصول
ہوئی شاید انہیں کسی ضروری کام سے کہیں ملاقات کو جانا تھا جس پر انہوں نے اس
مختصر سی ملاقت کے بعد مجھ خاکسار سے اجازت چاہی اور آخر میں ایک یادگار لمحہ
سیلفی کے ساتھ وہاں سے میں رخصت ہوا۔۔۔
Comments
Post a Comment