..................سکون..................
رات گئے دیر تک میں اپنے کمرے میں مطالعہ کر رہا تھا کہ اچانک مجھے
اپنے کمرے کے دروازے میں دستک سنائی دی۔۔۔ میں نے اپنی کتاب بند کی اور دروازے کے
اور بڑھا۔
"جی کک کون؟"
میں نے دھیرے سے پوچھا۔
"میں ہوں بیٹا۔"
امی جان نے دھیمی آواز میں کہا۔
"جی امی خیریت! آپ ابھی تک سوئی نہیں۔"
"بیٹا طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی اور دوائی بھی ختم ہو چکی ہے
تمہیں اتنی رات گئے بتانے کو بھی جی نہیں چاہ رہا"
امی جان کہ چہرے پر پریشانی عیاں تھی۔
"امی آپ کیسی بات کر رہی ہیں لائیں دوا کی پرچی دیجئے اور اپنے
کمرے میں جا کر آرام کریں میں ابھی جاکر دوا لے آتا ہوں۔"
یہ کہہ کر میں نے اپنے کمرے کے دیوار پر لٹکا ہوا شرٹ پہنا اور گھر
سے باہر آگیا۔
اس وقت رات کے سوا دو بج رہے ہوں گے میں اپنی امی جان کی دوا لینے
عائشہ منزل جا رہا تھا۔ شہر کا مضافات ایک عجیب پراسرار خاموشی میں غرق تھا۔ گلیاں
ویران تھیں اور سڑکیں سنسان، آسمان پر بادل بھی جھکے ہوئے تھے جیسے شبنم کے وزن سے
دبے ہوئے ہوں، فضا میں اجلا پن نہیں تھا، چاند کی روشنی تھی مگر دُھندلی، جب میں
نے اپنی موٹر بائک سڑک پر نکالی تو ٹھنڈی ٹھنڈی سرد ہوائیں میرے ناک پر ٹکراتے
ہوئے میرے چہرے کو چھو رہی تھی اور ساتھ ساتھ میرے بدن میں عجیب سی سرسراہٹ کی لہر
دوڑنے لگی، دواؤں کی دکان بند ہوجانے کے خیال سے میں نے اپنے بائک کی رفتار میں
اضافہ کیا اور سردی میں ہانپتےکانپتے ہوئے میں کچھ ہی منٹ میں عائشہ منزل جا
پہنچا، ابھی دکاندار اپنی دکان بند کرنے میں مصروف تھا کہ میں نے فوراً سے دکاندار
کو دوا کی پرچی تھما دی، اس نے تمام ادویات نکال کر کاؤنٹر پر رکھ دئیے، میں نے اس
کی رقم ادا کی اور واپسی اپنے بائک کی طرف لوٹا تو یکدم میری نگاہ دکان کے بگل میں
فُٹ پاتھ پر پڑی جہاں ایک معصوم سی بچی ٹھٹھرتی ہوئی سردی میں بےفکر و آسودہ سوئی
پڑی تھی یا شاید اسے اس ٹھٹرتی ہوئی سردی کا احساس نہیں ہو رہا تھا، میں وہیں کھڑے
کچھ دیر اسے دیکھتا رہا لیکن کافی وقت گزر جانے کے بعد بھی اس بچی کے جسم میں کوئی
حرکت نہیں نظر آئی تو میرے جسم میں خوف کی لرزش دوڑنے لگی میں نے اسے نیند سے
جگانے کے لئے اس کے ماتھے پر اپنا ہاتھ رکھا تو اس کا سر چولہے پررکھے توے کی طرح
جل رہا تھا اور اس کی حرارت مجھے محسوس ہو رہی تھی جیسے ہی میرا ہاتھ اس نے اپنے
سر پر محسوس کیا تو وہ فوراً اپنے گہری نیند سے بیدار ہوئی اور خوف زدہ نگاہوں سے
مجھے گھورنے لگی اور خود سے چمٹنے کی کوشش کی۔
"ڈرو مت بیٹا"
میں نے اسے تسلی دلاتے ہوئے پیار بھرے لہجے میں کہا تو وہ حیران کن
نگاہوں سے مجھے تکتی رہی۔
"بیٹا کیا نام ہے تمہارا؟
کہاں رہتی ہو؟
اتنی رات گئے تم گھر کیوں نہیں گئی؟"
میں نے ایک ساتھ کئی سوال اس پر داغ دیئے شاید یہی وجہ تھی کہ وہ
میرے کسی سوال کا جواب نہ دے سکی اور اپنے خیالوں میں گُم من ہی من یہ سوچ رہی تھی
کہ "صاحب ہم غریبوں کا کوئی گھر نہیں ہوتا، سڑک ہی ہمارا گھر ہوتا ہے ہمیں
رات اور دن میں فرق نہیں معلوم کیوں کہ ہمارے زندگی میں کبھی دن ہی نہیں آتے ہم
ہمیشہ اندھیرے میں رہتے ہیں ہمیں سردی اور گرمی کا بھی احساس نہیں ہوتا آخر ہو بھی
تو کیسے ہم نے کبھی گرمیوں میں اے سی اور سردیوں میں گرم گرم کمبل نہیں اوڑھے۔
اس کی خاموشی مجھے چیخ چیخ کر اس کا حالِ دل بیان کر رہی تھی۔
"آؤ بیٹا میں تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے چلوں۔"
میں نے بچی سے کہا۔
وہ خاموشی سے میرا چہرا تکتی رہی پھر میں اسے عائشہ منزل پر واقع ایک
ہسپتال لے گیا جہاں رات کے اس دوسرے پہر لوگوں کا رش لگا تھا۔
وقت بچانے اور جلد گھر واپسی کے ارادے سے میں نے ارجنٹ ڈاکٹر کی فیس
ادا کی اور اس کا معائنہ کروایا ڈاکٹر نے باہر کا کچھ نسخہ لکھ کر دیا تو میں باہر
میڈکل سے دوا لینے آیا لیکن باہر میڈکل بند ہو چکی تھی۔
میں نے باہر کے دوا کی پرچی اور کچھ نقد رقم اس کے ہاتھ میں تھما کر
گھر کو ہولیا۔ راستے میں سردی بہت تھی لیکن مجھے اس بچی کے جسم کی حرارت محسوس ہو
رہی تھی، گھر آیا تو بستر تیار تھا، ماں کو دوا دی اور اپنے کمرے میں آ کر نرم نرم
بستر پر لیٹ گیا لیکن آج مجھے یہ نرم نرم بستر اور فوم کے گدے بھی کانٹے کی طرح
میرے جسم میں چُب رہے تھے اور وہ بچی کتنے اطمنان کے ساتھ اس ٹھنڈے فرش پر سو رہی
تھی۔

Comments
Post a Comment