میں ماضی اور سعد

بچپن میں چھ برس کی عمر جب پہلی بار امی جان کے ساتھ لالوکھیت بازار آنا ہوا تو امی جان نے بازار میں داخل ہونے سے پہلے ایک نصیحت کی تھی کہ بیٹا خدا نا کرے تم بازار کے بھیڑ میں اگر کہیں گم ہو جاؤ یا پھر میرا ہاتھ چھوٹ جائے تو تم اس جگہ آ کر میرا انتظار کرنا اور یہاں سے ادھر اُدھر کہیں مت جانا میں تمہیں خود ڈھونڈتی ہوئی یہاں آؤنگی 
ایک مرتبہ عید کے موقع پر بازار بہت گرم تھا میں دکانوں پر کھلونے دیکھتے ہوئے کہیں گم ہو گیا تو مجھے فوراً امی جان کی وہ پہلی نصیحت یاد آئی تو میں خاموشی کے ساتھ امی جان کے بتائے ہوئے دکان پر آ کر بیٹھ گیا اور امی جان کا انتظار کرتا رہا پھر کچھ ہی دیر بعد میری امی مجھے ڈھونڈتی پھرتی اسی جگہ آن پہنچی اور میرا ہاتھ تھام کر پھر بازار لے گئی

آج اٹھارہ سال بعد میں پھر سے اسی بازار میں اپنے چھوٹے بھائی کو کھلونے کی دکان میں کھلونے دکھا رہا تھا اور ہم دونوں بھائی اپنی امی جان سے بچھڑ گئے تو مجھے اپنا وہ بچپن یاد آگیا جب پہلی بار امی نے مجھے اسی بازار میں نصیحت کی تھی امی جان کی وہ نصیحت یاد آتے ہی میں اپنے چھوٹے بھائی کا ہاتھ تھامے اسی جگہ آ کر بیٹھ کر ہم دونوں بھائی امی جان کا انتیظار کرنے لگے ابھی ہم دونوں بھائیوں کو کچھ ہی دیر ہوئے تھے امی جان سے بچھڑے ہوئے کہ امی جان ہم دونوں بھائیوں کو ڈھونڈتی ہوئی اسی جگہ آگئی اور پھر ہم دونوں بھائی امی جان کے ساتھ ہو لیے... بس فرق صرف اتنا تھا کہ اس وقت میری عمر چھ سال تھی اور میرا کوئی بھائی نہ تھا اور آج میرے بھائی کی عمر چھ سال ہے جس کے ساتھ میں ہوں...

سچ مچ ہم اولاد اپنے ماں باپ کی نصیحتوں کو بھول جاتے ہیں اور پھر جب ہم کسی مصیبت یا پریشانی میں پھنستے ہیں تو ہمیں اپنے ماں باپ کی کی گئی نصیحت یاد آتی ہے مگر ہمارے ماں باپ ہمیشہ اپنے نصیحتوں کو یاد رکھتے ہیں 

اللہ ہم تمام اولادوں کو اپنے والدین کی نصیحتوں پر عمل کرنے والا بنائے... آمین

WhatsApp