بنگالی بولنے والے پاکستانی شناخت سے محروم کیوں؟

میں ایک بنگالی بولنے
والا پاکستانی ہوں۔ میری پیدائش اس ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ہوئی۔ بنیادی
تعلیم سے لے کر گریجوئیشن تک یہیں تعلیم حاصل کی۔
دو ہزار پندرہ میں جب
میں نےاپنے قومی شناختی کارڈ کے لئے درخواست جمع کروائی تو نادرا حکام نے میری
مادری زبان کو میرے لئے ایک سوالیہ نشان بنا دیا۔ دو برسوں تک میں نادرا کے دفاتر
کے چکر لگاتا رہا لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی اور نہ ہی ان سرکاری اہلکاروں کی کانوں
میں جوں رینگی۔ بس تاریخ پہ تاریخ ملتی رہی۔
میری فیملی کی اگر
بات کی جائے تو میرے آبا و اجداد مشرقی پاکستان (بنگال) سے ہیں مگر میرا بچپن ان
سے دور رہ کر گزرا ہے۔ پاکستان میں میرے خاندان کے چند لوگ اور رشتہ دار ہیں۔ میں
نے پیدائش سے آج تک کبھی اپنے دادا دادی کو نہیں دیکھا۔ بچپن سے خواہش تھی کہ کبھی
بنگال جاؤں اور اپنے دادا دادی کو دیکھوں ان کے ساتھ وقت گزاروں مگر حالات نے کبھی
ساتھ نہ دیا۔
تین سال قبل میں
نادرا اپنا شناختی کارڈ بنوانے گیا تو مجھ پر بہت سے الزامات لگائے گئے، کئی کیس
بھی کئے گئے کہ میں پاکستانی نہیں ہوں اور نہ ہی مجھے شناخت مل سکتی ہے۔ میں بچپن
سے اللہ سے بس یہی دعا کرتا رہا کہ اللہ پاک میرے دادا اور دادی کو لمبی عمر عطا
کرے اور میرے بنگال جانے تک انہیں زندگی دے۔
تین سال کی دن رات
جدو جہد کے بعد مجھے میری شناخت ملی جس کے بعد اس سال گرمیوں کی چھٹیوں میں میں نے
بنگال جانے کا سوچا مگر اب پاکستانیوں کو بنگال کا ویزا اتنی آسانی سے نہیں ملتا۔
بہت زیادہ رکاوٹوں اور پیچیدگیوں سے گزر کر یا پھر رشوت دے کر ہی یہ کام ممکن ہے۔
اس لیے میں نے بنگال جانے کا ارداہ اگلے سال گرمیوں کی چھٹی تک ملتوی کردیا۔
کچھ دن بعد بھائی کی
کال موصول ہوئی اور ایک بری خبر ملی کہ بنگال یعنی مشرقی پاکستان میں میری دادی
رحلت فرما گئی ہیں۔ دادی کے بعد اب میرے دادا زندہ ہیں جن کی عمر اب لگ بھگ 102
سال کے قریب ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ میرے دادا کو زندگی دے تا کہ انہیں ہی دیکھنا
نصیب ہوجائے۔
عمران خان کا پاکستان
میں بنگالیوں کو شناخت دلوانے کے بیان کے بعد کراچی میں مقیم بنگالیوں کو ایک امید
نظر آئی ہے۔ لیکن پیپلز پارٹی کی مخالفت نے بنگالیوں کے پرانے زخم کو کرید کر پھر
سے تازہ کر دیا ہے۔ پیپلزپارٹی کو چاہیئے تھا کہ عمران خان کے اس بیان میں ان کا
ساتھ دیتے نا کہ مخالفت کر کے سقوط ڈھاکہ کا دکھ پھر سے تازہ کرتے۔
میں نے اپنی شناخت کی
خاطر تین سال تحریک چلائی۔ کراچی سے اسلام آباد، سپریم کورٹ، وفاقی محتسب اعلی اور
نادرا کے ہید کواٹر تک سے معلومات لے کر آیا۔ جس کے بعد مجھے علم ہوا کہ تمام
سیاسی جماعتوں میں پیپلز پارٹی ہمیشہ بنگالیوں کے خلاف رہی ہے اور یہ ایک المناک
بات ہے۔ پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ مخالفت ختم کر کے عمران خان کا ساتھ دے۔ اگر
پیپلز پارٹی ایسا کرتی ہے تو یہ ایک اچھا اقدام ہوگا اور بنگلہ دیش میں پھنسے
بہاری بھائیوں کے لیے بھی خوش آئند بات ہوگی۔ اگر پیپلز پارٹی ایسا نہیں کرتی تو
کم از کم ہمارے حقوق میں رکاوٹ نہ بنیں۔
پورے پاکستان کا تو
مجھے علم نہیں مگر کراچی میں کم و بیش 35 لاکھ کے قریب بنگالی برادری کے لوگ آباد
ہیں جن میں سے اکثریت سقوط ڈھاکہ کے وقت سے یہاں رہ رہے ہیں اور چند سقوط ڈھاکہ کے
بعد پاکستان آکر بسے ہیں۔ ان کی تیسری نسل یہاں آج بھی شہریت سے محروم ہے۔
کراچی کے 35 لاکھ
بنگالیوں میں سے اکثریت کواب تک شناخت نہیں مل سکی ہے اور جن کو ملی ہے انہوں نے
اسکے لئے بھاری رقم رشوت کی مد میں ادا کی ہیں اور جو رشوت نہ دے سکے وہ آج بھی
نادرا کے دفاترکے چکر لگا رہے ہیں۔
شناختی دستاویزات نہ
ہونے کے باعث کراچی میں مقیم بنگالیوں کی شرح خواندگی تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے۔
بےفارم نہ ہونے کی وجہ سے بچے بچیاں میٹرک بھی نہیں کر پاتے۔ شناختی کارڈ نہ ہونے
کی وجہ سے ملازمتوں کا بھی فقدان ہے، اگر یہ سلسلہ مزید آگے چلتا رہا تو ان میں
تعلیم یافتہ افراد ڈھونڈنا بہت مشکل ہو جائے گا۔
تین سال قبل میری
والدہ کا کارڈ تجدید کروانے کے دوران روک دیا گیا اور ان کی تحقیق کروائی گئی۔ ایک
سال میں اپنی والدہ کے ساتھ نادرا کے دفتر پر مجرم کی طرح حاضری لگاتا رہا بالآخر
ایک سال بعد والدہ کا کارڈ بن گیا جس کے فوری بعد میں نے اپنا کارڈ جمع کروایا مگر
وہی سلوک میرے ساتھ بھی کیا گیا اور تین سال تک مستقل مجھے بھی نا امیدی کا سامنا
رہا۔
اب نیا پاکستان
بن گیا ہے مگر بنگالیوں کی قومی شناخت کا پرانا مسئلہ اب بھی برقرار ہے۔ میں نئے
پاکستان میں ان دوستوں سے درخواست کرتا ہوں جنہوں نے نئے پاکستان بنانے میں عمران
خان کا ساتھ دیا کہ اب حکومت ان کی ہے تو ان پر فرض ہے کہ وہ اس مسئلے پر فوری
کوئی قدم اٹھائیں۔ یہاں بسنے والے پاکستانی بنگالیوں کو شناخت دلوائیں۔ جہالت اور
بھوک انسان کو درندہ بنا دیتی ہے۔ میں چاہتا ہوں میرے بنگالی بھائیوں کو بھی
برابری کی بنیاد پہ تعلیم، صحت اور دیگر معاشرتی اور اخلاقی سہولیات حاصل ہوں۔
مجھے تو میری شناخت مل گئی مگر مجھ پر اپنے بھائیوں کے لیے آواز اٹھانے کی ذمہ
داری ابھی بھی موجود ہے۔ میں اپنی برادری کے لیے آواز اٹھاتا رہوں گا جب تک انہیں
شناخت نہیں مل جاتی۔
Comments
Post a Comment