.............جو ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتا ہے...............
رات گئے دس بجے کے قریب سمندر سے اپنی فیملی سمیت گھر لوٹ رہا تھا ڈیفینس کے خیابان بحریہ پر والد صاحب نے اپنے صاحب سے ملنے کی خواہش کی تو میں ان کی خواہش پوری کرنے ان صاحب کے ہاں لے گیا جہاں وہ کئی سالوں پہلے ملازمت کیا کرتے تھے ان کا بنگلہ خیابان بحریہ کے بالکل مین سڑک پر ہے اس لیے مجھے زیادہ گھومنا نہیں پڑا، جب ہم ان کے صاحب کے ہاں پہنچے تو وہ ان کے ہاں آئے ہوئے مہمانوں کو رخصت کر رہے تھے، سو ہم نے گاڑی پر بیٹھنا مناسب سمجھا اور والد صاحب کو اکیلے جانے کی ہدایت کی والد صاحب ان کے دروازے پر پہنچے تو سب اسی وقت وہیں موجود تھے مہمانوں کو رخصت کی اور صاحب کے بچوں اور بیگم نے والد صاحب کو دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا والد نے انہیں بتایا کہ وہ اپنی پوری فیملی کے ساتھ سمندر کی سیر کو آئے تھے تو راستے میں واپسی پر ان سے ملنے آگئے ہم گاڑی میں بیٹھے ان کا انتظار کر رہے تھے کہ ان کے ڈرائیور نے آ کر ہمیں اندر بلوایا میں نے ان کے گھر کے باہر گاڑی پارک کی اور اندر چلا گیا کچھ دیر ہم ان کے ہاں رکے اور آدھے گھنٹے بعد جلدی گھر کے لئے روانہ ہوئے ان کا گھر سڑک کے دوسری جانب تھا تو یوٹرن کے لیے گاڑی گھماتے ہوئے سڑک کے بیچو بیچ میری گاڑی کا پہیا اپنی سسپینشن سے باہر نکل آیا شکر ہے کہ سڑک سنسان تھی اس لیے کوئی حادثہ پیش نہیں آیا مگر جو بھی گاڑی وہاں سے گزرتی بہت تیز رفتار میں گزرتی میں نے اور والد صاحب نے مل کر بڑی مشکل سے گاڑی کو دھکیلنا شروع کیا کہ اچانک ایک پانی کا ٹینکر بالکل ہمارے قریب سے گزرا جس سے جان بچی گاڑی کو دھکیل کر سڑک کے کنارے لگایا تو دیکھا گاڑی کا سسپینشن نکل گیا اور قریب قریب کوئی مکینک بھی موجود نہیں ابھی گاڑی سڑک کنارے لگا کر کسی مدد کے منتظر تھے کہ ایک خان ہمارے مدد کے لئے رکا مگر اس خان سے بھی کوئی مدد نہ مل سکی تو میں نے کریم اوبر بک کروائی تا کہ کسی طرح گھر پہنچ سکے دس منٹ گزر جانے کے بعد جب کریم اوبر کی طرف سے کوئی گاڑی ہمیں لینے نہیں آئی سب نے کال کر کے جانے سے انکار کر دیا اور نہ کوئی عام رکشہ وہاں سے گزر رہی تھی، جتنے بھی گزرے سب کے سب بھرے ہوئے تھے تو ہم نے گاڑی لاک کی اور پیدل سنسان سڑک پر کسی رونق والی جگہ کی جانب چلنے لگے اتنے میں بارش شروع ہو گئی ویسے ہی سمندر میں نہانے کی وجہ سے گیلا تھا مزید بارش سے گیلا ہو گیا
ابھی ہم ایک چوک پر پہنچے جہاں سے ایک رکشے والا اپنے گھر لوٹ رہا
تھا تو ہم نے اسے روکا تو اس نے بھی جانے سے انکار کر دیا ہم نے بڑی منت کی تو اس
نے کہا کہ وہ ہمیں دہلی کالونی تک چھوڑے گا جس پر ہم نے حامی بھری اور رکشے پر
سوار ہو گئے ابھی رکشے پر بیٹھے ایک سگنل کراس ہی کیا کہ رکشے والے کا پیٹرول بھی
ختم یہ ایک آزمائش تھی اللہ کی طرف بہرحال میں نے اتر کر رکشے والے کے ساتھ رکشے
کو دھکا لگانا شروع کیا تا کہ کسی قریبی پیٹرول پمپ سے پیٹرول ڈلوایا جا سکے ہم
رکشہ کو دھکا لگا ہی رہے تھے کہ اللہ نے موٹر سائکل پر سوار دو نوجوانوں کو ہماری
مدد کو بھیج دیا جنہوں نے اپنی بائک سے ہمارے رکشے کو پیٹرول پمپ تک پہنچایا،
پیٹرول پمپ پہنچے اور پیٹرول ڈلوا کر ہم دہلی کالونی آئے جہاں سے ہم نے دوسرا رکشہ
کیا اور خیر سے ابھی گھر پہنچے ہیں گھر پہنچ کر ہم سب نے اللہ کا شکر ادا کیا۔۔۔
اللہ تعالی بےشک اپنے بندوں کو کبھی مایوس نہیں کرتا اور جہاں سے
انسان کا گمان بھی نہیں ہوتا وہاں سے مدد فراہم کرتا ہے
سارے راستے یہی سوچتا رہا کہ اگر گاڑی کسی شاہراہ پر اس طرح خراب
ہوتی تو کسی بڑے حادثے سے بچنا ممکن نہ تھا لیکن اس پروردگار نے ہمیں ان سب سے
بچائے رکھا
اللہ پاک سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے... آمین
Comments
Post a Comment