تعلیم کو فروخت نہیں فروغ دیں

Image may contain: 1 person
ڈیڑھ ماہ قبل اس نوجوان سے میری ملاقات ایک مکینک کے دکان میں ہوئی، میں اپنے گاڑی کا سسپینشن بنوانے اپنے گھر کے پاس سسپینشن والے کے ہاں گیا جس کے برابر والے دکان میں یہ نوجوان گاڑی کے ڈینٹ ٹھیک کرنے میں مصروف تھا تپتی گرم دوپہر میں یہ نوجوان گاڑی کے نیچے لیٹ کر اس کی مرمت کر رہا تھا جس پر میں نے اس نوجوان سے گفتگوں شروع کی اور گاڑی کے متعلق سوالات شروع کئے یہ نوجوان اپنے کام کے ساتھ ساتھ میرے سوالات کے جوابات بھی دے رہا تھا چند گھنٹے اس نوجوان سے گفتگوں کے دوران میں نے اس سے اس کی ذاتی زندگی کے مطالق بھی سوالات کئے جس پر نوجوان نے اپنے متعلق بتایا کہ اسے بچپن سے پڑھنے لکھنے کا بہت شوق تھا مگر مشکل حالات اور غربت نے اسے کم سن میں ہی بڑا کر دیا اور اس نے مزدوری شروع کر دی اور اپنے چھوٹے بھائی کو تعلیم دینے لگا اس کا چھوٹا بھائی اب نویں جماعت کا طالب علم ہے اور گھر کا یہ اکیلا کفیل ہے اس کے والد صاحب کینسر جیسے مرض میں مبتلا ہو کر اس دنیا فانی سے رحلت فرما گئے جس کے بعد یہ اپنے چھوٹے بھائی کی تربیت ایک باپ کی طرح کر رہا ہے اس کی اس دکھ بھری داستان نے مجھے آبدیدہ کر دیا، گزشتہ چند ماہ سے میں رات کو اپنے گھر پر ایسے نوجوانوں کو تعلیم دے رہا ہوں جو ملازمت اور مزدوری کر کے بس زندگی کا گزر بسر کر رہے ہیں، گاڑی کے کام کے بعد میں نے اس نوجوان سے سوال کیا کہ اگر تمہیں کبھی زندگی میں پھر سے پڑھنے کا موقع مل جائے تو کیا تم پڑھوگے، یہ سوال سن کر نوجوان کچھ لمحہ کے لئے خاموش کسی خیال میں گم ہو گیا اور پھر ایک لمبی سی آہ بھرتے ہوئے نوجوان نے کہا کہ دل تو بہت چاہتا ہے مگر اب عمر نکل چکی ہے، میرے پاس عمر ہے نہ پڑھنے کے لئے وقت دن بھر مزدوری کرتا ہوں جس سے میرا گھر چلتا ہے اور رات دس بجے کے بعد یہاں سے چھٹی ملتی ہے جس کے بعد کوئی مجھے نہیں پڑھائے گا، اس نوجوان کی یہ بات سن کر میں نے اسے کہا کہ اگر میں پڑھا دوں تو کیا میرے پاس پڑھنے میرے گھر آوگے؟ میرا یہ سوال سن کر نوجوان مجھے حیرت زدہ نگاہوں سے دیکھنے لگا اور اس نے سوال کیا کہ کیا آپ واقع مجھے پڑھائیں گے اور میں اپنا نام بھی خود لکھ سکوں گا، میں نے اس کی حوصلہ افزائی کی اور اگلے دن اسے میں نے تین کاپیاں خریدنے کی تجویذ کی، اگلے دن جب میں اس سے ملنے اس کے دکان گیا تو یہ معمول کے مطابق کام کر رہا تھا، میں نے اسے رات دس بجے دکان بند کرنے کے بعد کال کرنے کو کہا تا کہ اسے اپنا گھر دکھا دوں اور یہ پڑھنے آجائے، رات گیارہ کے قریب اس کی کال آئی اور اس نے میرے پاس آنے کی خواہش کی، میں اسے لینے دکان پر پہنچا اسے ساتھ لے کر فورا قریبی ایک کتابوں کی دکان سے اردو قائدہ اور انگریزی کی کتاب دلائی اور اپنے ساتھ گھر لے آیا، وہ دن تھا اور آج کا دن ہے ڈیڑھ ماہ میں اس نوجوان کا شوق اور لگن سے یہ اب لکھنے پڑھنے قابل ہو گیا، آج شام کو کام سے واپس لوٹا تو والدہ نے امتیاز سے خریداری کے لئے چلنے کو کہا ابھی ہم امتیاز جانے کے لئے گھر سے نکل ہی رہے تھے کہ باہر یہ طالب علم آج جلدی کام ختم کر کے پڑھنے آگیا جس پر میں نے سوچا کیوں نہ آج اسے بھی اپنے ساتھ امتیاز لے چلوں تا کہ وہاں موجود تمام اشیاء کے نام پڑھوا سکوں اور اسی بہانے یہ بھی امتیاز کا چکر لگا لے، آج امتیاز میں خریداری کے تمام اشیاء کے اس سے نام پڑھوائے،
ہمارے معاشرے میں اس طرح لاکھوں نوجوان ایسے ہیں جو غربت کی زد میں آ کر تعلیم حاصل نہیں کر پاتے یا پھر ان کی حوصلہ افزائی کرنے والا کوئی نہیں ہوتا،
افسوس صد افسوس کہ ہم نے تعلیم کو فروغ دینے کے بجائے فروخت کرنا شروع کر دیا ہے، اگر ہم لوگ اپنی اپنی زندگی سے تھوڑا وقت نکال کر ان نوجوانوں کو پڑھا دیں یا پھر ان کی حوصلہ افزائی بھی کر دیں تو شاید ہمارا معاشرہ ایک پڑھا لکھا معاشرہ بن جائے۔۔۔۔




WhatsApp